اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی امریکی۔اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں اتوار کے روز احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اترپردیش، جموں و کشمیر، تلنگانہ، دہلی اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں شیعہ برادری نے سوگ، احتجاج اور یکجہتی کے پروگراموں کا اعلان کیا۔
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں شیعہ رہنماؤں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے ایک ویڈیو بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کی “شہادت” پر سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے مسلم برادری اور انسانیت دوست طبقات سے اپیل کی کہ بطور احتجاج اپنی دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ رات 8 بجے چھوٹا امام باڑہ میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوگا جس کے بعد شمع روشن کرنے کی تقریب (کینڈل لائٹ ویجل) بھی کی جائے گی۔ انہوں نے ملک بھر کی شیعہ برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں بھی تعزیتی اجتماعات منعقد کریں۔
اعلان کے بعد درگاہ حضرت عباس روڈ کے تاجر بورڈ نے بطور احتجاج کاروبار بند رکھا۔ شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا یعسوب عباس نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف “سخت احتجاج” کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق ہفتہ کو چھوٹا امام باڑہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا۔ شیعہ مون کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس نقوی نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای “صرف ایران کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے رہنما تھے” اور انہوں نے فلسطین کے مسئلے پر ہمیشہ آواز بلند کی۔
جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں اتوار کو شیعہ برادری کے بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ شہر کے مرکزی علاقے لال چوک میں مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے پیر کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مسلم امہ سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے پرامن احتجاج کی تاکید کی۔
ریاست کرناٹک کے بعض علاقوں میں بھی سوگ اور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ قصبہ علی پور میں شہری سیاہ لباس پہن کر سڑکوں پر نکل آئے اور تین روز تک دکانیں بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کے رکن ناطق علی پوری نے کہا کہ خامنہ ای کی ہلاکت نے مقامی لوگوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق مقامی انجمن نے قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا ہے جبکہ جلوس نکالنے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے، جو پولیس اجازت سے مشروط ہوگا۔ بنگلورو میں انجمن اسلامیہ کے صدر سید زمین رضا نے اسکری مسجد میں خاموش احتجاج کی منصوبہ بندی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اسرائیلی کارروائی کی مذمت کے لیے ہوگا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
وہیں تلنگانہ کے حیدرآباد میں بھی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد زبردست احتجاج کیا گیا۔ اسی طرح دہلی میں بھی شیعہ برادری نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ شیعہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی کہ ’اگرچہ جذبات شدید ہیں، تاہم تمام احتجاج پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں‘۔
آپ کا تبصرہ